حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ بنتُ الہدیٰ (رجسٹرڈ، ہریانہ) کے زیرِ اہتمام بانئ تنظیم مولانا سید غلام عسکریؒ کی یاد میں ایک عظیم الشان مجلسِ ترحیم منعقد ہوئی؛ جس میں طالبات سمیت مؤمنات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

مولانا عقیل رضا ترابی، سربراہ مدرسہ بنتُ الہدیٰ (رجسٹرڈ، ہریانہ) نے بتایا کہ سربراہ تحریکِ دینداری، بانئ تنظیم، مصلحِ قوم اور معمارِ تربیت مولانا سید غلام عسکریؒ کی وفات کی مناسبت سے ایک باوقار اور روح پرور مجلسِ ترحیم کا انعقاد کیا گیا، جس میں مبلغاتِ کرام اور طالباتِ مدرسہ نے تقاریر، منظومات اور تواشیح کے ذریعے عظیم بانیٔ تنظیم کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے خواہر کریمہ بتول نے کیا، جس کے بعد خواہر شفا بتول اور جزا بتول نے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ نعتِ رسولِ مقبول پیش کی۔
طالباتِ کلاسِ اُولیٰ نے اجتماعی طور پر تواشیح پیش کیں، جبکہ نظامت کے فرائض خوش اسلوبی کے ساتھ خواہر مصباح نے انجام دیے۔
اس موقع پر مبلغہ محترمہ سیدہ اشم زہرا صاحبہ نے مولانا سید غلام عسکریؒ کے بارے میں کہا کہ“مولانا سید غلام عسکریؒ نے علمِ دین کو عملی زندگی سے جوڑ کر ایک ایسی فکری و تربیتی تحریک کی بنیاد رکھی، جس نے نسلِ نو کی دینی شناخت کو مضبوط کیا۔ آپ کی زندگی اخلاص، خدمتِ خلق اور ولایتِ اہلِ بیتؑ سے وابستگی کی روشن مثال تھی۔”

بعد ازاں خواہر آفریدہ بتول، خواہر فائزہ بتول اور خواہر ثانیہ بتول نے نظم
“قوم کو یہ فکر تھی کیا ہوگا بعدِ عسکریؒ
ہے خدا کا فضل اور لطف و کرم ہم پر یہی
ہے حفاظت کرتا ان کی مالکِ کونین بھی
آ گئے بن کے نگہباں تنظیم کے سید صفی”
پیش کرکے عقیدت کے جذبات کا اظہار کیا۔
اس کے بعد مبلغہ محترمہ ثناء فاطمہ صاحبہ نجفی نے اپنے خطاب میں مولانا سید غلام عسکریؒ کے بارے میں کہا کہ “مولانا عسکریؒ نے محدود وسائل کے باوجود تعلیمِ دینیہ کو منظم اور مؤثر انداز میں عام کیا۔ آپ کا فکری ورثہ آج بھی 1200 سے زائد مکاتب اور تربیتی مراکز کے لیے مشعلِ راہ ہے۔”
بعد ازاں خواہر جانشین فاطمہ، خواہر فائزہ بتول اور خواہر سمانہ خاتون (طالباتِ مدرسہ) نے ترانہ
“ہم پر تیرا احسان ہے اے بانئ تنظیم” پڑھ کر بانئ تنظیم کی خدمت میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

اس موقع پر محترمہ سیدہ علقمہ بتول صاحبہ (معلمہ، مدرسہ بنتُ الہدیٰ) نے خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ“بانئ تنظیم مولانا سید غلام عسکریؒ کی جدوجہد دراصل ایک خاموش مگر پائدار انقلاب تھی۔ آپ نے طالبات کی دینی و اخلاقی تربیت کو اپنی زندگی کا اصل مقصد قرار دیا۔”
پروگرام کے اگلے مرحلے میں مدرسہ بنتُ الہدیٰ کی ناظمۂ تعلیم محترمہ علی فاطمہ صاحبہ نے مولانا سید غلام عسکریؒ کا مختصر تعارف اور ان کی خدمات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ “مولانا سید غلام عسکریؒ نہ صرف ایک بصیر عالمِ دین تھے بلکہ ایک مدبّر اور مخلص مربّی بھی تھے۔ آپ نے تنظیمی نظم و ضبط کے ذریعے دینی تعلیم کے شعبے کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ خصوصاً خواتین کی دینی تربیت کے میدان میں آپ کی کاوشیں ناقابلِ فراموش ہیں۔آپ کا قائم کردہ فکری و تربیتی نظام آج بھی مؤثر انداز میں اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔ بانئ تنظیم کی یہ روشن روایت آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔”

آخر میں عالمہ فاضلہ محترمہ سیدہ سامرہ بی بی صاحبہ مشہدی نے مجلسِ عزاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “مولانا سید غلام عسکریؒ کی پوری زندگی دینِ اہلِ بیتؑ کی خدمت اور معاشرے کی فکری اصلاح کے لیے وقف رہی۔ آپ نے تعلیم، تربیت اور تنظیم کے ذریعے ایک ایسی نسل تیار کی جو حق و ولایت کی پاسدار ہے۔ آپ کا اسوہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی خدمت شہرت نہیں بلکہ ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج کی یہ مجلس دراصل اس عہد کی تجدید ہے کہ ہم بانئ تنظیم کے مشن کو خلوص کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔”











آپ کا تبصرہ